لبنان پر اسرائیلی حملے جاری ہیں

زبانی کلامی کی حد تک بیشتر اسلامی ممالک نے مذمتی بیان دیے ہیں اور انسانی جانوں کے ضیاغ پر افسوس بھی ظاہر کیا ہے لیکن بات اس سے آگے نہیں بڑھی۔

ایک دہائی پہلے تک پاکستان میں اسرائیل کے خلاف بڑے بڑے مظاہرے ہوتے تھے اور مذہبی جماعتوں کی اپیل پر ہنگامہ کھڑا ہوجاتا تھا لیکن اب صورتحال اس کے برعکس نظر آتی ہے۔

پاکستان میں مختلف عقائد رکھنے والی مذہبی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل کی اپیل پر بھی اب تک ہونے والے کسی بھی مظاہرے میں چند سو سے زائد افراد جمع نہیں ہوسکے۔ سول سوسائٹی کی تنظیمیں ہوں یا مختلف سیاسی جماعتیں ان کی اپیل پر بھی کوئی بڑا احتجاجی مظاہرہ نہیں ہوسکا۔

گزشتہ برس جب حکومت نے نئے کمپیٹرائیزڈ پاسپورٹ سے مذہب کا خانہ نکالا تھا تو اس عام سی بات پر بھی سینکڑوں افراد کو مذہبی جماعتیں سڑکوں پر لانے میں کامیاب ہوئیں تھیں اور صدر مشرف کو اپنا فیصلہ واپس لینا پڑا تھا لیکن لبنان پر حملے کے خلاف منعقد کردہ مظاہرے میں اُتنے لوگ بھی نہیں آئے۔

مولانا فضل الرحمٰن کی زیر سربراہی جمیعت علما اسلام نے اکیلے طور پر چند برس قبل طالبان کے حق میں یا عراق پر امریکی حملے کے خلاف جو مظاہرے کیے تھے ان کے شرکاء بھی لبنان پر اسرائیلی حملے کے خلاف ہونے والے مظاہروں سے کہیں زیادہ تھے۔

پاکستان سمیت دنیا کے مسلمانوں کی اکثریت والے ممالک میں لبنان کے حق میں حکومتوں کی جانب سے سخت احتجاج نہ کرنے پر مشرق وسطیٰ کے امور کے ماہر پروفیسر ممتاز احمد کہتے ہیں کہ سعودی عرب سمیت کوئی بھی اسلامی ملک امریکہ سے دشمنی مول لینے کو تیار نہیں۔ جبکہ ان کے مطابق مسلمان ممالک کے عوام کی جانب سے لبنان پر حملوں کے خلاف احتجاج میں عدم دلچسپی کی ایک بڑی وجہ فرقہ وارانہ عقائد بھی ہیں۔

 مشرق وسطیٰ کی زیادہ تر میڈیا کمپنیوں کی ملکیت سعودی اور لبنان کے حریری خاندان کے پاس ہے اور وہ اپنے مفادات کی بنا پر حزب اللہ کو نیچا دکھانے کی کوشش کر رہے ہیں

ممتاز احمد

پروفیسر ممتاز احمد کہتے ہیں کہ اکثریتی مسلمان سنی مسلک کے ہیں جبکہ اسرائیل سے لڑنے والی حزب اللہ ایک شیعہ تنظیم ہے اور لبنان میں بھی شیعہ مسلمان اکثریت میں ہیں۔

امریکہ کی ہیمپٹن یونیورسٹی میں پڑھانے والے پروفیسر ممتاز احمد کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی زیادہ تر میڈیا کمپنیوں کی ملکیت سعودی اور لبنان کے حریری خاندان کے پاس ہے اور وہ اپنے مفادات کی بنا پر حزب اللہ کو نیچا دکھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ان کے مطابق ایسا کرنے سے ایک تو وہ امریکہ کی خوشنودی حاصل کرتے ہیں دوسرا اپنے عقائد کی تسکین بھی لیتے ہیں۔ جبکہ ان کے بقول اڑتیس لاکھ آبادی والے چھوٹے سے ملک لبنان سے دیگر مسلمان ممالک کے کوئی بڑے مفادات بھی وابسطہ نہیں ہیں۔

جبکہ کچھ مبصرین کی رائے ان سے مختلف ہے اور وہ کہتے ہیں کہ حزب اللہ لبنان کی کوئی سرکاری فوج نہیں ہے بلکہ ایک شدت پسند تنظیم ہے اس لیے بیشتر مسلمان ممالک ان کی کھل کر حمایت نہیں کرتے۔

ان ماہرین کی حزب اللہ کی حیثیت کے بارے میں آراء اپنی جگہ لیکن یہ مختلف الخیال مبصرین کافی حد تک اس بات پر متفق دکھائی دیتے ہیں کہ اسرائیل نے جس طرح عرب ریاستوں کو ناکوں چنے چبوائے ہیں اور وہ اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکے اور ایسے میں اسرائیلی فوج کے ساتھ مسلسل جھڑپیں جاری رکھ کر انہیں جتنا نقصان حزب اللہ نے پہنچایا ہے اتنا کسی عرب ملک نے انہیں نہیں پہنچایا۔

لبنان پر حملے کے خلاف مظاہرہ

لبنان اور حزب اللہ کے حق میں مسلمان ممالک اور ان کی عوام کی جانب سے تاحال سخت رد عمل سامنے نہ آنے کے بارے میں بعض مبصرین اور تجزیہ کاروں کا اختلاف رائے تو برقرار ہے لیکن اس صورتحال کو نظر میں رکھتے ہوئے بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ گزشتہ دہائیوں کی نسبت اب مسلمان ممالک میں اسرائیل کے خلاف نفرت کی شدت میں بتدریج کمی ہوئی ہے۔

ایسی سوچ رکھنے والے افراد کا خیال ہے کہ ایک طرف بدلتے عالمی حالات کی وجہ سے بیشتر اسلامی ممالک کے سیاسی اور اقتصادی مفادات نے ان ممالک کی پالیسیوں میں خاصی تبدیلی پیدا کردی ہے اور اب یہ ممالک اسرائیل کو ایک حقیقت سمجہنے لگے ہیں۔ ایسے میں دوسری طرف میڈیا کے پھیلاؤ کی وجہ سے معلومات کی کمی کا خلا پر ہونے سے عام مسلمانوں کی سوچ میں بھی اب اسرائیل کے خلاف وہ انتہا پسندی نہیں رہی جس کی جھلک چند برس قبل تک نمایاں نظر آتی تھی۔

so this is what is happinig Isreal is attacking muslim sate we are siting mum. shame of us at least we should not be keeping quite on this matter. 

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: