Israel’s Olmert: No cease-fire in Lebanon : Where is Muslim Ummah SLEEPING??????????

July 31, 2006

 Israeli warplanes carried out strikes in southern Lebanon on Monday, hours after agreeing to temporarily halt air raids while investigating a bombing that killed at least 56 Lebanese civilians, mostly women and children seeking shelter. Israeli Prime Minister Ehud Olmert said there will be no cease-fire, adding that ” Israel is continuing to fight.”

 So where is muslim ummah well i think they are sleeping or something Isreal is doing what ever she wants and all of Muslim countries are condemming it GREAT. What is the benifit of condeming when it isn’t woking. Come on next time Isreal may start Advancing toward Holy Cities . We should launch all out offensive against Isreal all muslim countries united against THE EVIL.


لبنان پر اسرائیل کے حملوں کے بعد متاثرہ افراد کی مدد کے لیئے پاکستان کے معروف فلاحی کارکن عبدالستار ایدھی ہفتے کی صبح دمشق پہنچنے کے بعد وہ اتوار کو بیروت روانہ ہو رہے ہیں۔

July 31, 2006

عبدالستار ایدھی اپنے دو ساتھیوں کے ہمراہ زمینی راستے کے ذریعے بیروت جانے کی کوشش کریں گے۔ ایدھی کے ترجمان کے مطابق عبدالستار ایدھی نے دمشق پہنچ کر ان اسّی پاکستانی خاندانوں سے ملاقات کی جو لبنان سے ہجرت کر کے پناہ کے لیئے شام آئے ہیں۔ ان لوگوں میں عورتیں اور بچے بھی شامل ہیں اور ان کا تعلق زیادہ تر راولپنڈی اور پنجاب کے دیگر علاقوں سے ہے۔ عبدالستار ایدھی نے ان لوگوں میں کھانا اور خشک دودھ بھی تقسیم کیا۔ ترجمان کے مطابق عبدالستار ایدھی نے دمشق میں دیگر لبنانی پناہ گزینوں کے کیمپوں کا دورہ بھی کیا جہاں زیادہ تر بچے، عورتیں اور ضعیف افراد ہیں۔ ایدھی نے انہیں بھی کھانا، خشک دودھ اور دوائیں فراہم کیں۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ ایدھی بیروت پہنچنے کے بعد مقامی باشندوں سے رضا کار منتخب کر کے امدادی کاروائیاں انجام دیں گے۔ ترجمان کے مطابق ایدھی اپنے ساتھ امدادی سامان کی بجائے دس لاکھ امریکی ڈالر لے کر گئے ہیں تاکہ مقامی طور پر ضروری سامان خرید سکیں۔ عبدالستار ایدھی کا کہنا ہے کہ ان سے کسی ایک انسان کو بھی فائدہ پہنچتا ہو تو وہ کسی بھی مشکل یا خطرہ کے باوجود کسی بھی جگہ جانے کو تیار ہیں۔ یاد رہے کہ پاکستان کے وزیراعظم شوکت عزیز نے بھی لبنان کو امداد فراہم کرنے کی پیشکش کی ہے اور غذائی امداد اور ادویات سے بھرے دو طیارے لبنان بھیجنے کی منظور بھی دی ہے۔ لبنان پر اسرائیل کی بمباری کے بعد پاکستان میں لبنان اور حزب اللہ کی حمایت میں روزانہ مظاہرے ہورہے ہیں۔

Well i love this man he is really doing a great job in Pakistan and Hope he’ll be able to give aids to Lebnan 


دِلّی: اسرائیلی حملے کے خلاف احتجاج

July 30, 2006

ہندوستانی دارالحکومت دِلّی میں فلسطین اور لبنان پر اسرائیلی حملوں کے خلاف احتجاجی مظاہرے ہوئے ہیں۔ احتجاج کے لیئے دِلّی کی تاریخی جامع مسجد پر ایک جلوس کا اہتمام کیا گیا تھا جس سے مذہبی رہنماؤ ں نے خطاب کیا۔

جمعہ کی نماز کے بعد ہزاروں لوگوں نے احتجاجی جلوس میں حصہ لیا اور امریکہ اور اسرائيل کے خلاف زبردست نعرے بازی کی گئی۔اس موقع پر جامع مسجد کے امام سید احمد بخاری نے کہا کہ اسرائیلی بربریت سے پوری انسانیت لرز اٹھی ہے اور اسکی جارحیت کی شدت پوری دنیا محسوس کی جا سکتی ہے۔ ’ہندوستان کی حکومت کو چاہیے کہ وہ اسرائیل سے اپنے سفارتی تعلقات ختم کر لے‘۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی خارجہ پالیسی میں ہمیشہ فلسطین اور لبنان کو حمایت حاصل رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’اس موقع پر اسرائیل کی حمایت کرنا اور فلسطینی مسلمانوں ک ساتھ صرف زبانی ہمدردی کا اظہار کرنا کسی بھی طرح قابل قبول نہیں ہے‘۔

بطور احتجاج اسرائیل کے پر چم کو جامع مسجد کی سیڑھیوں پر بچھایا گيا تھا اور لوگ اس پر پیر رکھ کر گزر رہے تھے جبکہ کئی افراد نے فلسطینی پرچم کو اپنے ہاتھوں میں تھام رکھا تھا۔

مظاہرین کے ایک بڑے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے مولانا نواب نقشبندی نے کہا کہ پہلے امریکہ نے لبنان سے شامی فوجیں نکلوائيں اور جب بیروت تن تنہا ہوگیا تو اسرائيل سے حملہ کروادیا۔ ’ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ اقوام متحدہ فلسطین اور لبنان کی مدد کے لیے کوئی عملی قدم اٹھائے اور اسرائیلی بربریت کو روکے‘۔

امام احمد بخاری کا کہنا تھا کہ سیکڑوں لوگ لبنان اور فلسطین میں ہلاک ہوگئے ہیں لیکن امریکہ کا جواب ہے کہ اسرائیل کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ پوری دنیا کے انسان برابر ہیں اور اگر امریکہ کو مسلمانوں کی ہلاکت پر کوئی افسوس نہیں تو ہمیں بھی گیاہ ستمبر کے حملے پر ذرا افسوس نہیں ہے۔

لبنان پر اسرائیلی حملے کے خلاف اس سے پہلے ہندوستان کی بائیں بازو کی جماعتوں نے بھی احتجاجی مظاہرہ کیا تھا۔ اس مظاہرے کی قیادت پارٹی کے جنرل سکریٹری پرکاش کرات نے کی تھی۔

 

SO muslims in non muslims state are protesting but we are keeping mum really bad show from our side.


لبنان پر اسرائیلی حملے جاری ہیں

July 29, 2006

زبانی کلامی کی حد تک بیشتر اسلامی ممالک نے مذمتی بیان دیے ہیں اور انسانی جانوں کے ضیاغ پر افسوس بھی ظاہر کیا ہے لیکن بات اس سے آگے نہیں بڑھی۔

ایک دہائی پہلے تک پاکستان میں اسرائیل کے خلاف بڑے بڑے مظاہرے ہوتے تھے اور مذہبی جماعتوں کی اپیل پر ہنگامہ کھڑا ہوجاتا تھا لیکن اب صورتحال اس کے برعکس نظر آتی ہے۔

پاکستان میں مختلف عقائد رکھنے والی مذہبی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل کی اپیل پر بھی اب تک ہونے والے کسی بھی مظاہرے میں چند سو سے زائد افراد جمع نہیں ہوسکے۔ سول سوسائٹی کی تنظیمیں ہوں یا مختلف سیاسی جماعتیں ان کی اپیل پر بھی کوئی بڑا احتجاجی مظاہرہ نہیں ہوسکا۔

گزشتہ برس جب حکومت نے نئے کمپیٹرائیزڈ پاسپورٹ سے مذہب کا خانہ نکالا تھا تو اس عام سی بات پر بھی سینکڑوں افراد کو مذہبی جماعتیں سڑکوں پر لانے میں کامیاب ہوئیں تھیں اور صدر مشرف کو اپنا فیصلہ واپس لینا پڑا تھا لیکن لبنان پر حملے کے خلاف منعقد کردہ مظاہرے میں اُتنے لوگ بھی نہیں آئے۔

مولانا فضل الرحمٰن کی زیر سربراہی جمیعت علما اسلام نے اکیلے طور پر چند برس قبل طالبان کے حق میں یا عراق پر امریکی حملے کے خلاف جو مظاہرے کیے تھے ان کے شرکاء بھی لبنان پر اسرائیلی حملے کے خلاف ہونے والے مظاہروں سے کہیں زیادہ تھے۔

پاکستان سمیت دنیا کے مسلمانوں کی اکثریت والے ممالک میں لبنان کے حق میں حکومتوں کی جانب سے سخت احتجاج نہ کرنے پر مشرق وسطیٰ کے امور کے ماہر پروفیسر ممتاز احمد کہتے ہیں کہ سعودی عرب سمیت کوئی بھی اسلامی ملک امریکہ سے دشمنی مول لینے کو تیار نہیں۔ جبکہ ان کے مطابق مسلمان ممالک کے عوام کی جانب سے لبنان پر حملوں کے خلاف احتجاج میں عدم دلچسپی کی ایک بڑی وجہ فرقہ وارانہ عقائد بھی ہیں۔

 مشرق وسطیٰ کی زیادہ تر میڈیا کمپنیوں کی ملکیت سعودی اور لبنان کے حریری خاندان کے پاس ہے اور وہ اپنے مفادات کی بنا پر حزب اللہ کو نیچا دکھانے کی کوشش کر رہے ہیں

ممتاز احمد

پروفیسر ممتاز احمد کہتے ہیں کہ اکثریتی مسلمان سنی مسلک کے ہیں جبکہ اسرائیل سے لڑنے والی حزب اللہ ایک شیعہ تنظیم ہے اور لبنان میں بھی شیعہ مسلمان اکثریت میں ہیں۔

امریکہ کی ہیمپٹن یونیورسٹی میں پڑھانے والے پروفیسر ممتاز احمد کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی زیادہ تر میڈیا کمپنیوں کی ملکیت سعودی اور لبنان کے حریری خاندان کے پاس ہے اور وہ اپنے مفادات کی بنا پر حزب اللہ کو نیچا دکھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ان کے مطابق ایسا کرنے سے ایک تو وہ امریکہ کی خوشنودی حاصل کرتے ہیں دوسرا اپنے عقائد کی تسکین بھی لیتے ہیں۔ جبکہ ان کے بقول اڑتیس لاکھ آبادی والے چھوٹے سے ملک لبنان سے دیگر مسلمان ممالک کے کوئی بڑے مفادات بھی وابسطہ نہیں ہیں۔

جبکہ کچھ مبصرین کی رائے ان سے مختلف ہے اور وہ کہتے ہیں کہ حزب اللہ لبنان کی کوئی سرکاری فوج نہیں ہے بلکہ ایک شدت پسند تنظیم ہے اس لیے بیشتر مسلمان ممالک ان کی کھل کر حمایت نہیں کرتے۔

ان ماہرین کی حزب اللہ کی حیثیت کے بارے میں آراء اپنی جگہ لیکن یہ مختلف الخیال مبصرین کافی حد تک اس بات پر متفق دکھائی دیتے ہیں کہ اسرائیل نے جس طرح عرب ریاستوں کو ناکوں چنے چبوائے ہیں اور وہ اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکے اور ایسے میں اسرائیلی فوج کے ساتھ مسلسل جھڑپیں جاری رکھ کر انہیں جتنا نقصان حزب اللہ نے پہنچایا ہے اتنا کسی عرب ملک نے انہیں نہیں پہنچایا۔

لبنان پر حملے کے خلاف مظاہرہ

لبنان اور حزب اللہ کے حق میں مسلمان ممالک اور ان کی عوام کی جانب سے تاحال سخت رد عمل سامنے نہ آنے کے بارے میں بعض مبصرین اور تجزیہ کاروں کا اختلاف رائے تو برقرار ہے لیکن اس صورتحال کو نظر میں رکھتے ہوئے بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ گزشتہ دہائیوں کی نسبت اب مسلمان ممالک میں اسرائیل کے خلاف نفرت کی شدت میں بتدریج کمی ہوئی ہے۔

ایسی سوچ رکھنے والے افراد کا خیال ہے کہ ایک طرف بدلتے عالمی حالات کی وجہ سے بیشتر اسلامی ممالک کے سیاسی اور اقتصادی مفادات نے ان ممالک کی پالیسیوں میں خاصی تبدیلی پیدا کردی ہے اور اب یہ ممالک اسرائیل کو ایک حقیقت سمجہنے لگے ہیں۔ ایسے میں دوسری طرف میڈیا کے پھیلاؤ کی وجہ سے معلومات کی کمی کا خلا پر ہونے سے عام مسلمانوں کی سوچ میں بھی اب اسرائیل کے خلاف وہ انتہا پسندی نہیں رہی جس کی جھلک چند برس قبل تک نمایاں نظر آتی تھی۔

so this is what is happinig Isreal is attacking muslim sate we are siting mum. shame of us at least we should not be keeping quite on this matter. 


Pakistan asks Indian state to help reform madrasas; Taking help from enemy Where are we Heading???????

July 28, 2006

Pakistan has sought the help of an Indian state to revamp its system of madrasas after accusations some of the Islamic schools teach religious hatred and are breeding grounds for militancy.

The Pakistani mission in New Delhi has written to the government of the eastern Indian state of West Bengal, ruled by communists for nearly three decades, seeking to study the state’s success at reforming its Islamic schools.

Madrasas in the state teach religious tolerance and include Christian and Hindu students in the classrooms as well as teaching subjects such as science and information technology.

“We have read about the madrasas of West Bengal and hopefully we can replicate them in our reforms program,” Mohammed Khalid Jamali, a first secretary at the Pakistani High Commission in New Delhi.

“We have written to the West Bengal government to gather knowledge about religious tolerance practiced in the madrasas, the curriculum and the successful reforms program,” he said.

Pakistan President Pervez Musharraf has vowed to clean up the religious schools.

After the July 7, 2005, suicide bombings of London’s Underground trains, he ordered all foreigners be expelled from madrasas in Pakistan because their presence was giving the country a reputation as a breeding ground for militancy.

At least one of the four suicide bombers was believed to have spent time at a madrasa.

Nearly a quarter of West Bengal’s 80 million people are Muslims but the state has seen very little religious violence compared to other parts of India.

Many put this down at least in part to reforming the madrasas.

Half of the state’s 1,000 madrasas — attended by about 400,000 students — are now government-run and officials plan to take control of the rest in coming years.

West Bengal’s madrasas teach Islam and Sufi literature as well as science, and also plan to introduce foreign languages such as French, in addition to the Arabic, Urdu, Hindi and English already taught.

There are 12,000 madrasas in Pakistan, mostly providing rudimentary schooling, free religious education, shelter and food to about one million boys from poor families.

Critics say many madrasas provide a hardline interpretation of Islam, adhered to by members of groups such as the Taliban, al Qaeda and other Islamic militant groups. They also accuse some schools of being a front for these organizations.

West Bengal’s government said it was eager to help Pakistan.

“I got the letter two days ago and we are happy to know that Pakistan is keen to learn about our system of education in madrasas. We will try and help them out,” Abdus Sattar, West Bengal’s education minister.

So we will be helped by Non-mulim state to know how to run madrassas. Shame of us


Three killed, five missing in flooding in Pakistan

July 28, 2006

A woman and two children were killed in overnight torrential rains and rescuers were Thursday searching for at least five more people after mudslides changed the course of Kunhar River and inundated two villages in northern Pakistan, officials and reports said.

The latest deaths brings the toll from heavy monsoon rains in Pakistan to at least 26.

Kunhar River washed away more than 100 mostly mud houses in Kashtra and Gul Deri villages, located in a valley, after changing its course.

Police have recovered three bodies but they could not be immediately identified.

The search was on for at least five others missing after floods swept them away.

Thousands of people are at risk of landslides in parts of NWFP and Pakistan-administered Kashmir where ground has become highly unstable following the 7.6-magnitude earthquake last year that left an estimated 75,000 people.

At least 17 people were killed last Monday after mudslides caused by heavy monsoon rains buried makeshift relief camps in Muzaffarabad, capital Pakistani administered Kashmir.

Most of an estimated 3.5 million people rendered homeless by the October 8 earthquake are still housed in temporary relief camps and mud houses.

The UN High Commissioner for Refugees (UNHCR), the Unicef and the International Organization for Migration (IOM) have completed relocation of some 4,000 earthquake survivors to relief camps from villages at risk of landslides in quake-hit areas.

Meanwhile, reports from another northern town of Gilgit said at least three children were injured Thursday in flashfloods and mudslides in Jotal area.

Landslides also badly damaged nearly a kilometre stretch of the Karakorum Highway in Gilgit that links Pakistan to China, causing serious disruption in traffic flow.

” uff yar Allah Help Pakistan”

things are getting bad.


So NO RAIN

July 26, 2006

The day is over its about 11:55pm and no rain today yar ………………

O Allah , our Lord Please give us your rain of rhamat here in Shorkot Amen!